Tuesday, July 8, 2025

امت کو در پیش چیلنجز اورسرمایہ دارانہ معاشی نظام کے ہاتھوں مجبور امت کی حالت

 

امت کو در پیش چیلنجز اور سرمایہ داری کے معاشی نظام کے ہاتھوں مجبور  امت کی حالت

اس وقت امت مسلمہ کوبیک وقت علمی اور عملی كئی طرح کے محاذ درپیش ہیں۔ اگر علمی موضوعات کی طرف دیکھیں تو ایک طرف کچھ لوگوں نے خدا کا انکار شروع کیا ہے، کچھ خدا کے بارے میں تشکیک پیدا کرتے ہیں، کچھ لوگوں نے ختم نبوت کاانکار شروع کیا تو کچھ حجیت حدیث کے منکر ہیں تو کچھ صحابہ ٔ کرام   کے خلاف زبان ِ طعن دراز کررہے ہیں۔  اگر عملی  طور پر دیکھیں تو کچھ لوگوں نے سیکولریت کو اپنا لیا ہے یعنی  دین پر عمل کو لغو سمجھا ہوا ہے جبکہ کچھ اپنی مرضی کے دین پر عمل کرتے ہیں اور جس چیز کو دل کرے مذاق اڑاتے ہیں اور چھوڑ دیتے ہیں  ۔  امت فرقہ پرستی، قوم پرستی، لسانیت سمیت کئی دلدلوں میں دھنسی ہوئی ہے۔   سرمایہ دارانہ نظام کی ظالمانہ چکی ان تمام زخموں کو ہوا دیتی رہتی ہے۔  کچھ ٹکوں کے مالدار اپنے سے غریبوں پر دھونس جمانے کے لئے اس نظام کی چکی کو سپورٹ کرتے ہیں حالانکہ خود اپنے سے بڑے مالداروں کی دھونس برداشت کرتے ہیں۔  دراصل یہ سرمایہ دارانہ نظام  ہی سب سے بڑا ظلم ہے۔ جواسلامی معاشی ، قانونی اور حکومتی نظام کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔ اور آج بھی انگریزی سسٹم  کے مطابق لڑاؤ اور حکومت کرو پر عمل کررہا ہے۔ مجموعی طور پر امت  کے افراد میں ریاکاری، خود رائی ، خود پسندی  اور انانیت عام  ہوچکی ہے۔ اخلاص للہ،ِ خداخوفی اور  استحضارِ آخرت  ایک کہانی رہ گئی ہے۔

اس معاشی نظام نے ہمیں  حلال حرام کی تمیز بھلانے میں ایسا مجبور کیا ہوا ہے کہ ہم حضورﷺ کی بیان کردہ اسلام کی سب سے بڑی بدعت "موٹا پیٹ" کو بدعت نہیں سمجھتے۔  سود خور، زنا کار ،  ملاوٹ کرنے والے ،نماز کا استخفاف کرنے والے ، سنتوں کا مذاق اُڑانے والے،  انگریز کے نظام کو اسلام کے نظام سے  بہتر سمجھنے والے ،  ظالم ، جاہل  کو جب کہ وہ سیٹھ ہے ، چوہدری ہے، سرکاری افسر ہے،   ایم این اے یا ایم پی اے ہے ، تگڑے پیسے والا ہے  اچھا چندہ دیتا ہے۔ اگر چندہ نہ بھی دیتا ہو، سوٹڈ بوٹڈ اسٹیٹس والا بندہ ہے تو ہم اسے  نہ  بدعتی سمجھتے ہیں ، نہ  گستاخ سمجھتے ہیں اور نہ ہی مشرک سمجھتے ہیں، اور نہ اس کی تعظیم کرنے کو دین کے ڈھانے کے مترادف سمجھتے  ہیں۔ لیکن جو دین دار غریب ہے ، اللہ کو راضی کرنا چاہتا ہے،  نبی کے طریقے پر چلنا چاہتا ہے ، صحابہ کا طرز عمل اپنا نا چاہتا ہے۔  مگر ہماری کسی رائے سے اختلاف کرلیتا ہے ہم اس پر مذکورہ بالا فتووں میں سے کوئی نہ کوئی تو  ضرور لگائیں گے۔ ( یہ مقصد نہیں کہ پہلی قسم کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش نہ آیا جائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے مخالف فرقے والوں سے بداخلاقی والا برتاؤ چھوڑیں اور انہیں  بھی خوش اخلاقی کا حقدار سمجھیں)   یہ ہمیں اس معاشی نظام نے سکھایا ہے کہ آپس میں لڑتے رہو تو تمہیں رہنے دیں گے۔  ایک دوسرے کو چڑاؤ ، ایک دوسرے کو ستاؤ، لڑو اور پھر ان حرام خوروں کو بیچ میں ڈلواکر صلح کرو،  آپس میں دشمن رہو، اور ان حرام خوروں کو اپنا محسن  سمجھو۔

اور جماعتوں کی بات نہ کریں صرف اہلسنت والجماعت کہلانے والی  پاکستان کی تین جماعتوں کا جائزہ لیں تو ایک  تقسیم در تقسیم  در تقسیم کی لڑی ہے۔ دیوبندی جماعت ان کی ذیلی اقسام اور پھر ان اقسام میں بھی باہم ناراضگیاں ، یہی حال  بریلوی جماعت ، اہلحدیث حضرات میں بھی  ہے ۔ ہر ایک میں ذیلی اقسام ہیں اور پھر وہ ذیلی اقسام بھی کسی ایک نکتے پر قائم نہیں ہیں فالی اللہ المشتکی۔

 

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے

جس دین کے مدعو تھے کبھی قیصر و کسرٰی
خود آج وہ مہمان سرائے فقرا ہے

وہ دین ہوئی بزم جہاں جس سے چراغاں
اب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے

جو دین کہ تھا شرک سے عالم کا نگہباں
اب اس کا نگہبان اگر ہے تو خدا ہے

جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے
اس دین میں خود تفرقہ اب آ کے پڑا ہے

جس دین نے غیروں کے تھے دل آ کے ملائے
اس دین میں اب بھائی خود بھائی سے جدا ہے

جو دین کہ ہمدرد بنی نوع بشر تھا
اب جنگ و جدل چار طرف اس میں بپا ہے

جس دین کا تھا فقر بھی اکسیر ، غنا بھی
اس دین میں اب فقر ہے باقی نہ غنا ہے

جس دین کی حجت سے سب ادیان تھے مغلوب
اب معترض اس دین پہ ہر ہرزہ درا ہے

ہے دین تیرا اب بھی وہی چشمہ صافی
دیں داروں میں پر آب ہے باقی نہ صفا ہے

عالم ہے سو بےعمل ہے، جاہل ہے سو وحشی
منعم ہے سو مغرور ہے ، مفلس سو گدا ہے

یاں راگ ہے دن رات وداں رنگِ شب وروز
یہ مجلسِ اعیاں ہے وہ بزمِ شرفا ہے

چھوٹوں میں اطاعت ہے نہ شفقت ہے بڑوں میں
پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے

دولت ہے نہ عزت نہ فضیلت نہ ہنر ہے
اک دین ہے باقی سو وہ بے برگ و نوا ہے

ہے دین کی دولت سے بہا علم سے رونق
بے دولت و علم اس میں نہ رونق نہ بہا ہے

شاہد ہے اگر دین تو علم اس کا ہے زیور
زیور ہے اگر علم تو مال سے کی جلا ہے

جس قوم میں اور دین میں ہو علم نہ دولت
اس قوم کی اور دین کی پانی پہ بنا ہے

گو قوم میں تیری نہیں اب کوئی بڑائی
پر نام تری قوم کا یاں اب بھی بڑا ہے

ڈر ہے کہیں یہ نام بھی مٹ جائے نہ آخر
مدت سے اسے دورِ زماں میٹ رہا ہے

جس قصر کا تھا سر بفلک گنبدِ اقبال
ادبار کی اب گونج رہی اس میں صدا ہے

بیڑا تھا نہ جو بادِ مخالف سے خبردار
جو چلتی ہے اب چلتی خلاف اس کے ہوا ہے

وہ روشنیِ بام و درِ کشورِ اسلام
یاد آج تلک جس کی زمانے کو ضیا ہے

روشن نظر آتا نہیں واں کوئی چراغ آج
بجھنے کو ہے اب گر کوئی بجھنے سے بچا ہے

عشرت کدے آباد تھے جس قوم کے ہرسو
اس قوم کا ایک ایک گھر اب بزمِ عزا ہے

چاوش تھے للکارتے جن رہ گزروں میں
دن رات بلند ان میں فقیروں کی صدا ہے

وہ قوم کہ آفاق میں جو سر بہ فلک تھی
وہ یاد میں اسلاف کی اب رو بہ قضا ہے

فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہباں
بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے

اے چشمہ رحمت بابی انت و امی
دنیا پہ تیرا لطف صدا عام رہا ہے

کر حق سے دعا امت مرحوم کے حق میں
خطروں میں بہت جس کا جہاز آ کے گھرا ہے

امت میں تری نیک بھی ہیں بد بھی ہیں لیکن
دل دادہ ترا ایک سے ایک ان میں سوا ہے

ایماں جسے کہتے ہیں عقیدے میں ہمارے
وہ تیری محبت تری عترت کی ولا ہے

ہر چپقلش دہر مخالف میں تیرا نام
ہتھیار جوانوں کا ہے، پیروں کا عصا ہے

جو خاک تیرے در پہ ہے جاروب سے اڑتی
وہ خاک ہمارے لئے داروے شفا ہے

جو شہر ہوا تیری ولادت سے مشرف
اب تک وہی قبلہ تری امت کا رہا ہے

جس ملک نے پائی تری ہجرت سے سعادت
کعبے سے کشش اس کی ہر اک دل میں سوا ہے

کل دیکھئے پیش آئے غلاموں کو ترے کیا
اب تک تو ترے نام پہ اک ایک فدا ہے

ہم نیک ہیں یا بد ہیں پھر آخر ہیں تمہارے
نسبت بہت اچھی ہے اگر حال برا ہے

تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی
ہاں ایک دعا تری کے مقبول خدا ہے

خود جاہ کے طالب ہیں نہ عزت کے خواہاں
پر فکر ترے دین کی عزت کی صدا ہے

گر دین کو جوکھوں نہیں عزت سے ہماری
امت تری ہر حال میں راضی بہ رضا ہے

ہاں حالیء گستاخ نہ بڑھ حدِ ادب سے
باتوں سے ٹپکتا تری اب صاف گلا ہے

ہے یہ بھی خبر تجھ کو کہ ہے کون مخاطب
یاں جنبشِ لب خارج از آہنگ خطا ہے

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

No comments:

Post a Comment