امت کو در پیش چیلنجز اور سرمایہ داری کے معاشی نظام کے ہاتھوں مجبور امت کی حالت
اس وقت امت مسلمہ کوبیک وقت علمی اور عملی كئی طرح
کے محاذ درپیش ہیں۔ اگر علمی موضوعات کی طرف دیکھیں تو ایک طرف کچھ لوگوں نے خدا
کا انکار شروع کیا ہے، کچھ خدا کے بارے میں تشکیک پیدا کرتے ہیں، کچھ لوگوں نے ختم
نبوت کاانکار شروع کیا تو کچھ حجیت حدیث کے منکر ہیں تو کچھ صحابہ ٔ کرام کے خلاف زبان ِ طعن دراز کررہے ہیں۔ اگر عملی
طور پر دیکھیں تو کچھ لوگوں نے سیکولریت کو اپنا لیا ہے یعنی دین پر عمل کو لغو سمجھا ہوا ہے جبکہ کچھ اپنی
مرضی کے دین پر عمل کرتے ہیں اور جس چیز کو دل کرے مذاق اڑاتے ہیں اور چھوڑ دیتے
ہیں ۔ امت فرقہ پرستی، قوم پرستی، لسانیت سمیت کئی
دلدلوں میں دھنسی ہوئی ہے۔ سرمایہ دارانہ
نظام کی ظالمانہ چکی ان تمام زخموں کو ہوا دیتی رہتی ہے۔ کچھ ٹکوں کے مالدار اپنے سے غریبوں پر دھونس
جمانے کے لئے اس نظام کی چکی کو سپورٹ کرتے ہیں حالانکہ خود اپنے سے بڑے مالداروں
کی دھونس برداشت کرتے ہیں۔ دراصل یہ
سرمایہ دارانہ نظام ہی سب سے بڑا ظلم ہے۔
جواسلامی معاشی ، قانونی اور حکومتی نظام کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔ اور آج بھی
انگریزی سسٹم کے مطابق لڑاؤ اور حکومت کرو
پر عمل کررہا ہے۔ مجموعی طور پر امت کے
افراد میں ریاکاری، خود رائی ، خود پسندی
اور انانیت عام ہوچکی ہے۔ اخلاص
للہ،ِ خداخوفی اور استحضارِ آخرت ایک کہانی رہ گئی ہے۔
اس معاشی نظام نے ہمیں حلال حرام کی تمیز بھلانے میں ایسا مجبور کیا
ہوا ہے کہ ہم حضورﷺ کی بیان کردہ اسلام کی سب سے بڑی بدعت "موٹا پیٹ" کو
بدعت نہیں سمجھتے۔ سود خور، زنا کار ، ملاوٹ کرنے والے ،نماز کا استخفاف کرنے والے ،
سنتوں کا مذاق اُڑانے والے، انگریز کے
نظام کو اسلام کے نظام سے بہتر سمجھنے
والے ، ظالم ، جاہل کو جب کہ وہ سیٹھ ہے ، چوہدری ہے، سرکاری افسر
ہے، ایم این اے یا ایم پی اے ہے ، تگڑے
پیسے والا ہے اچھا چندہ دیتا ہے۔ اگر چندہ
نہ بھی دیتا ہو، سوٹڈ بوٹڈ اسٹیٹس والا بندہ ہے تو ہم اسے نہ بدعتی سمجھتے ہیں ، نہ گستاخ سمجھتے ہیں اور نہ ہی مشرک سمجھتے ہیں، اور نہ اس
کی تعظیم کرنے کو دین کے ڈھانے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ لیکن جو دین دار غریب ہے ، اللہ کو
راضی کرنا چاہتا ہے، نبی کے طریقے پر چلنا
چاہتا ہے ، صحابہ کا طرز عمل اپنا نا چاہتا ہے۔
مگر ہماری کسی رائے سے اختلاف کرلیتا ہے ہم اس پر مذکورہ بالا فتووں میں سے
کوئی نہ کوئی تو ضرور لگائیں گے۔ ( یہ مقصد نہیں کہ پہلی قسم کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش نہ آیا جائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے مخالف فرقے والوں سے بداخلاقی والا برتاؤ چھوڑیں اور انہیں بھی خوش اخلاقی کا حقدار سمجھیں) یہ ہمیں اس معاشی نظام نے سکھایا ہے کہ آپس میں
لڑتے رہو تو تمہیں رہنے دیں گے۔ ایک دوسرے
کو چڑاؤ ، ایک دوسرے کو ستاؤ، لڑو اور پھر ان حرام خوروں کو بیچ میں ڈلواکر صلح
کرو، آپس میں دشمن رہو، اور ان حرام
خوروں کو اپنا محسن سمجھو۔
اور جماعتوں کی بات نہ کریں صرف اہلسنت والجماعت
کہلانے والی پاکستان کی تین جماعتوں کا
جائزہ لیں تو ایک تقسیم در تقسیم در تقسیم کی لڑی ہے۔ دیوبندی جماعت ان کی ذیلی
اقسام اور پھر ان اقسام میں بھی باہم ناراضگیاں ، یہی حال بریلوی جماعت ، اہلحدیث حضرات میں بھی ہے ۔ ہر ایک میں ذیلی اقسام ہیں اور پھر وہ
ذیلی اقسام بھی کسی ایک نکتے پر قائم نہیں ہیں فالی اللہ المشتکی۔
No comments:
Post a Comment